کوئٹہ ( پ ر ) تھائی لینڈ میں منعقد کیے جانے والے بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس کے مقاصد واضح نہیں اس لیے بی این ایم کے نمائندے شر کت نہیں کریں گے ' کانفرنس سے متعلق حقیقی بلوچ قوم دوست جماعتوں کو اعتماد میں نہ لینے سے منتظمین کی نیت پر شک ہے ' کانفرنس میں انہی لوگوں کو نمائندگی دی جارہی ہے جنہوں نے جنیوامیں بلوچ قومی تحریک کے بارے میں ابہام پید اکیا تھا' ہم خیال آزادی پسند قوتوں سے بھی لا تعلق رہنے کی اپیل کرتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار بلوچ نیشنل موومنٹ کے قائمقام صدر عصاظفر نے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں ہونے والے بلوچستان انٹر نیشنل کانفرنس کو مسترد کرتے ہوئے کیاہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ بیرون وطن مقیم بلوچوں سے کا فی امیدیں وابستہ ہیں اگر وہ بیرون وطن بلوچ قوم کے سفیر کا کردار اداکرنا چاہتے ہیں تواپنی ذات کو نمایاں کرنے کی بجائے حقیقی قوم دوست جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کام کریں تاکہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہ رہے ۔ آزادی پسند قوم دوست جماعتوں کے جھدکاروں کی شہادتوں اور عظیم قربانیوں کی وجہ سے بلوچ قومی تحریک عالمی سطح پر متعارف ہوئی ہے ان جماعتوں کو نظر انداز کر کے بلوچ قومی تحریک سے وابستگی کا دعویٰ کرناجھوٹ اور منافقت ہے ۔ بیرو ن وطن رہنے والے کچھ حلقے شہداء اور لاپتہ بلوچ رہنماء کی تصاویر اور ویڈیوز گرافکس ڈیزائن میں استعمال کر کے لوگوں کے جذبات کو تسکین پہنچانے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں لیکن شہداء کے عمل کو جارے رکھنے والے جھد کاروں کو اس وقت تک حقیر نظر سے دیکھا جاتا ہے جب تک اُن کی شہادت نہیں ہوتی یا انہیں اغواء کر کے غائب نہیں کیا جاتایہ دہرا معیار قابل ستائش نہیں بلکہ اصلاح طلب ہے ۔واضح کرتے ہیں کہ بلوچ قومی تحریک کی نمائندگی کا حق صرف انہی تنظیموں کو حاصل ہے جو تحریک کے روح رواں کا کردار اداکرتے ہوئے بلوچستان کی آزادی کے عملی جدوجہد میں شامل ہیں اور انہیں کام کرتے ہوئے بلوچستان میں دیکھا جاسکتا ہے ۔کاغذی 'الیکڑونک ' جعلی اور نمائشی لوگوں کو تحریک کے نام پر سوداگری کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔بیرون وطن مقیم بلوچ آزادی پسند جماعتوں کے جھدکاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر متعلقہ لوگوں کو بلوچ تحریک کانام استعمال کر نے سے ہر ممکن روکنے کی کوشش کریں ۔
Have to download and install
Monday, February 15, 2010
تھائی لینڈ میں منعقدہ بلوچستان انٹر نیشنل کانفرنس کے مقاصد واضح نہیں'آزادی پسند جماعتوں کو اعتماد میں نہ لینے پر مسترد کرتے ہیں' عصا ظفر
Tuesday, February 2, 2010
ستار نواز اور ساتھیوں کی بی این ایم میں شمولیت سے بلوچ مستقبل پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ' عصا ظفر
کوئٹہ +گوادر( پ ر ) بلوچ نیشنل موومنٹ کے قائمقام صدر عصاظفر نے خاران 'حب اور ستار نواز کی قیادت میں پارٹی میں نئے شامل ہونے والے جھدکاروں کو اپنے مبارک بادی پیغام میں کہاہے کہ قوم میں بی این ایم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت شہید واجہ کے فلسفہ آزادی کی فتح ہے ۔ستار نواز اور دوستوں کا جرأت مندانہ فیصلہ قوم پر کارپوکریٹک اور حقیقی قوم دوستی کے درمیان فرق کو مزید واضح کرئے گا جس کے بلوچ مستقبل اور سیاست پرمثبت اثرات ہوں گے ۔شمولیت کرنے والے تمام ساتھی حقیقی قوم دوست' نظریاتی سیاسی کارکن اور قائدانہ صلاحیت کے حامل ہیں ۔تحریک کے فیصلہ کن مرحلے میں یہ جھد کار اپنے صلاحیتوں کی بدولت شہید واجہ کے بی این ایم کو تحریک آزادی کا ہر اول دستہ بنانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اتنی بڑی تعداد میں بلوچ قائدین کی بی این ایم میں شمولیت کا سہرا پارٹی کے اُن ثابت قدم جھدکاروں کے سر جاتا ہے جنہوں نے شہید واجہ کا ساتھ دے کر بی این ایم کے بنیادی نظریات سے انحراف کرنے والوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ۔ اپنے نظریات پر قائم رہ کر قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں اور جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔سچے بلوچ قائدین کی اپنے بنیادی نظریے کی طرف واپسی سے ماضی میں شہید واجہ کے بی این ایم کو برقرار رکھنے کے فیصلے کو خود کشی قرار دینے والوں کو اندازہ ہوچکاہوگا کہ بی این ایم کو ختم کرنے کی اُن کی خواہش طفلانہ تھی۔۔
Tuesday, January 26, 2010
پنجگور میں بی این ایف رہنماؤں کے گھر ایف سی چھاپہ آزادی پسند سیاسی جماعتوں سے متعلق ابہمام پید اکرنا ہے ' عصا ظفر
کوئٹہ ( پ ر ) پنجگور میں بی آرپی اور بی ایس او (آزاد) کے رہنماﺅں کے گھر وں پرایف سی چھاپہ بلوچ قوم کے خلاف پاکستانی فورسز کی طے شدہ جارحانہ پالیسی کا حصہ ہے ' بلوچ مسلح حریت پسندوں سے مار کھاکر سیاسی رہنماﺅں کا نشانہ بنانا ثابت کرتا ہے کہ بلوچستان میں ایف سی کو بلوچ نیشنل فرنٹ کی سیاسی سر گرمیوں کو روکنے کے لیے تعینات کیا گیاہے ' بی این ایف سیاسی فلیٹ فارم ہے رہنماﺅں پر مسلح کا رروائیوں کے مقدمات درج کرواکر ابہام پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان خیالات کا اظہار بلو چ نیشنل فرنٹ کے سیکریٹری جنرل عصا ظفر نے اپنے بیان میں کیا ۔انہوں نے کہاکہ بلوچ نیشنل فرنٹ میں شامل جماعتیں بلوچستان کی آزادی کے لیے سیاسی اندازمیں جدوجہد کررہی ہیں۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے بی این ایف نے ہمیشہ سیاسی اور پرامن راہ اپناکر دنیا کو پیغام دیاہے کہ بلوچستان کا مسئلہ خالصتاً سیاسی ہے جسے پاکستان کی قبضہ گیر قوتیں سازش اور طاقت کے زور پر غلط رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر بلوچوں کوحاصل ہمدردی کم کی جاسکے ۔بی آرپی او ر بی ایس او(آزاد) کے کارکنان پر اس طرح کے مقدمات نئے نہیں اس سے قبل بھی بی این ایف کے رہنماﺅں پر جھوٹے مقدمات قائم کیے جاتے رہے ہیںجن کے ذریعے پاکستانی ایجنسیاں ماضی میں بلوچ رہنماﺅں کی سر گرمیوں کو محدود اور مانٹیر کرتے رہے ہیں ۔شہید واجہ غلام محمد بلوچ ' شہید لا لہ منیر اور شہید شیر محمد کو عدالت میں پیشی کے بعد اُٹھا کر شہید کردیاگیا اسی طرح کئی دیگر سیاسی رہنماﺅں کو بھی پیشی کے بعد خفیہ ادارے اغواءکر چکے ہیں خدشہ ہے کہ ایف سی کی طرف سے قائم کردہ حالیہ بوگس مقدمات کا مقصد بھی مذکورہ رہنماﺅں کو ٹارگٹ بناناہے ۔